روم میٹ

قسم کلام: صفت نسبتی ( واحد )

معنی

١ - ایک کمرے میں کسی کے ساتھ رہنے والا، کمرے کا ساتھی، روم فیلو۔ "بینظیر کی یہ روم میٹ بعد میں بھی ان سے ملتی رہی۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ١٣ دسمبر، ١١ )

اشتقاق

انگریزی سے ماخوذ اسم 'روم' کے ساتھ اِسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'میٹ' ملا کر مرکب بنایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٨٨ء میں روزنامہ "جنگ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ایک کمرے میں کسی کے ساتھ رہنے والا، کمرے کا ساتھی، روم فیلو۔ "بینظیر کی یہ روم میٹ بعد میں بھی ان سے ملتی رہی۔"      ( ١٩٨٨ء، جنگ، کراچی، ١٣ دسمبر، ١١ )